13

عوامی جمہوریہ چین کے صدر شی جن پنگ کی دعوت پر صدر مملکت آصف علی زرداری 4 سے 8 فروری تک چین کا سرکاری دورہ کررہے ہیں

پاکستان اور چین نے انسداد دہشت گردی، دفاع، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت متعدد شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے چین میں اپنے قیام کے دوران صدر مملکت نویں ایشیائی سرمائی کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔دورے کے دوران صدر شی جن پنگ نے صدر زرداری سے گرمجوشی اور دوستانہ ماحول میں بات چیت کی۔ انہوں نے نئی صورتحال میں پاک چین تعلقات اور باہمی دلچسپی کے بین الاقوامی اور علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری سے عوامی جمہوریہ چین کے وزیر اعظم لی کیانگ اور نیشنل پیپلز کانگریس کی سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین ژائو لیجی نے بھی ملاقات کی۔ بیان کے مطابق فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چین پاکستان ہمہ موسمی سٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنر شپ تاریخ اور عوام کا انتخاب ہے اور اسے دونوں ممالک میں زندگی کے تمام شعبوں کی طرف سے وسیع حمایت حاصل ہے۔ بدلتے ہوئے بین الاقوامی حالات کا مقابلہ کرنے کے بعد چین اور پاکستان کے درمیان پائیدار شراکت داری اور آہنی دوستی جغرافیائی سیاسی مفادات سے بالاتر ہے اور علاقائی امن، استحکام اور ترقی کے لیے ایک اہم مثبت عنصر ہے۔ بیان کے مطابق فریقین نے ہمیشہ ایک دوسرے کو سمجھا اور ایک دوسرے کی حمایت کی ہے اور سٹریٹجک باہمی اعتماد اور عملی تعاون کو گہرا کیا ہے۔ دونوں فریقوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کے تعلقات سٹریٹجک اہمیت کے حامل ہیں اور اس میں خلل ڈالنے یا کمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش ناکامی سے دوچار ہوگی۔ چین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ چین پاکستان تعلقات اس کے خارجہ تعلقات میں ایک ترجیح اور چین کی خارجہ پالیسی میں خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ پاک چین تعلقات اس کی خارجہ پالیسی کا سنگ بنیاد ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں فریق اعلیٰ سطح کا سیاسی باہمی اعتماد، اعلیٰ سطح کا عملی تعاون، اعلیٰ سطح کا سکیورٹی تعاون اور اعلیٰ سطح کی بین الاقوامی رابطہ کاری کو مزید گہرا کریں گے، نئے دور میں مشترکہ مستقبل کے ساتھ مزید قریبی چین پاکستان کمیونٹی کی تعمیر کے لئے کوششوں کو تیز کریں گے اور دونوں ممالک کی مشترکہ خوشحالی اور خطے کی ترقی کے لئے بھرپور کردار ادا کریں گے۔ پاکستان نے صدر شی جن پنگ کی طرف سے پیش کردہ گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو، گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو اور گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو کی تعریف اور بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔ دونوں فریقوں نے عالمی چیلنجز سے مشترکہ طور پر نمٹنے اور بنی نوع انسان کے لیے مشترکہ مستقبل کے ساتھ ایک کمیونٹی کو فروغ دینے کے لیے بین الاقوامی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ پاکستان نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی رہنمائی میں چینی عوام کی طرف سے کی گئی عظیم ترقیاتی کامیابیوں کا ذکر کیا اور ہر لحاظ سے ایک عظیم جدید سوشلسٹ ملک کی تعمیر کے عظیم مقصد کو آگے بڑھانے اور چینی جدیدیت کے ذریعے چینی قوم کی بحالی کو محسوس کرنے میں چین کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔ چین نے پاکستان کے قومی اقتصادی تبدیلی کے منصوبے (اڑان پاکستان) کو نوٹ کرتے ہوئے اقتصادی اصلاحات اور قومی ترقی میں پاکستان کی جانب سے حاصل کی گئی نئی کامیابیوں کو سراہا اور پاکستان کے استحکام، سلامتی، ترقی اور خوشحالی کی خواہش کا اظہار کیا۔ دونوں فریقوں نے اپنے اپنے بنیادی مفادات اور اہم خدشات سے متعلق امور پر ایک دوسرے کے لئے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 2758 کے اختیار میں کوئی سوال یا چیلنج نہیں ہے۔ پاکستان نے ون چائنا اصول پر اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا اور یہ کہ تائیوان عوامی جمہوریہ چین کی سرزمین کا ایک ناقابل تنسیخ حصہ ہے اور تائیوان کا سوال چین کے بنیادی مفادات کا مرکز ہے، پاکستان قومی اتحاد کے حصول کے لئے چین کی طرف سے کی جانے والی تمام کوششوں کی مضبوطی سے حمایت کرتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں