48

پنجاب میں کرپیشن کا خاتمہ کیوں نہ ہو سکا ؟ ڈاکٹر نورین فاضل

پاکستان میں انصاف اور قانون کی حکمرانی ہمیشہ ایک پیچیدہ سوال رہا ہے، خاص طور پر جب بات پنجاب کی ہو۔ دعوے تو بہت کیے جاتے ہیں، لیکن عملی طور پر قانون صرف کمزوروں پر لاگو ہوتا نظر آتا ہے، جبکہ بااثر افراد آج بھی احتساب سے بالاتر ہیں۔
بدعنوانی کے خلاف جنگ کے لیے احتسابی عمل کی ضرورت ہے جو تعصب سے پاک ہو۔ بدقسمتی سے جن کا احتساب ہونا چاہیے وہ اکثر سیاسی سمجھوتوں کی وجہ سے انصاف سے بچ جاتے ہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران احتساب کے عمل کو مضبوط بنانے کی کوششیں کی گئیں لیکن ان پر سیاسی انتقام کا لیبل لگا دیا گیا جس سے اصلاحات کی تاثیر کمزور ہو گئی۔ محترمہ کنول شوزب (مرکزی صدر پی ٹی آئی خواتین ونگ بننے پر مبارک ہو) نے مسلسل خواتین کے لیے سیاست اور معاشرے میں مساوی مواقع کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ لیکن کیا موجودہ نظام میں یہ ممکن ہے؟ جب ایک عام عورت انصاف کے حصول کے لیے برسوں جدوجہد کرتی ہے اور جب حکومتی ادارے ہی بدعنوان عناصر کی حفاظت کرتے ہیں تو بامعنی اصلاحات کیسے ہو سکتی ہیں؟!
کرپشن کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ احتساب کا عمل بلاتفریق ہو۔ لیکن حقیقت میں، جن پر ہاتھ ڈالنے کی ضرورت ہوتی ہے، وہی سیاسی مصلحتوں کی آڑ میں بچ نکلتے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کے دوران احتساب کے عمل کو مؤثر بنانے کی کوشش کی گئی، لیکن اسے سیاسی انتقام قرار دے کر کمزور کر دیا گیا۔
کنول شوذب اور پی ٹی آئی ویمن ونگ نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ خواتین کو سیاست اور سماج میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ لیکن کیا موجودہ نظام میں یہ ممکن ہے؟ جب ایک عام عورت کو انصاف کے حصول میں سالہا سال لگ جاتے ہیں اور جب حکومتی ادارے بھی کرپٹ عناصر کی پشت پناہی کرتے ہیں، تو اصلاحات کیسے ممکن ہو سکتی ہیں؟
یہ سوال ہر پاکستانی کے ذہن میں اٹھتا ہے کہ اگر پورے ملک میں قانون کی حکمرانی نافذ کی جا سکتی ہے، تو پھر پنجاب میں کیوں نہیں؟ کیا پنجاب کے ادارے کسی اور اصول پر کام کر رہے ہیں؟ کیا یہ وہی صوبہ نہیں جہاں پولیس اصلاحات کی ضرورت ہمیشہ محسوس کی گئی؟ اگر پنجاب میں بھی وہی پرانا طرزِ حکمرانی چلتا رہا، تو عوام کا اعتماد ریاستی اداروں سے اٹھ جائے گا۔
پی ٹی آئی ویمن ونگ کی چیئرپرسن کنول شوذب نے متعدد مواقع پر قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد کی ہے، خاص طور پر خواتین کے حقوق اور انصاف کے لیے۔ ان کے مطابق، اگر خواتین کو مساوی مواقع اور انصاف فراہم کرنا ہے تو سب سے پہلے عدالتی نظام اور احتساب کے عمل کو بہتر بنانا ہوگا۔پنجاب میں کرپشن کا خاتمہ مختلف وجوہات کے باعث ممکن نہ ہو سکا۔ سب سے بڑی وجہ نظامِ عدل اور قانون کی کمزور عملداری ہے، جہاں بدعنوان عناصر اکثر سزا سے بچ نکلتے ہیں۔ سیاسی مداخلت اور اقربا پروری بھی کرپشن کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ سرکاری اداروں میں شفافیت کی کمی اور احتساب کے ناقص نظام کے باعث بدعنوانی پنپتی ہے۔ عوامی شعور اور کرپشن کے خلاف اجتماعی جدوجہد کا فقدان بھی ایک اہم وجہ ہے۔ کرپشن کے خاتمے کے لیے سخت قوانین، آزاد عدلیہ، اور شفافیت پر مبنی انتظامیہ ناگزیر ہے۔
آگے بڑھنے کا راستہ پاکستان کے لیے کرپشن سے پاک معاشرے کی تعمیر میں مضمر ہے۔ ایمانداری، شفافیت اور قانون کی حکمرانی ہماری ترقی کی بنیاد ہیں۔ ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ دیانت داری کو اپنائے اور بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کرے تاکہ ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان ممکن ہو۔ پاکستانی عوام خاص طور پر پنجاب کے شہری اب یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا واقعی قانون کی حکمرانی قائم ہو سکے گی یا یہ محض ایک خواب رہے گا؟ اگر اصلاحات نہ ہوئیں، تو عام آدمی کا عدلیہ اور قانون پر سے اعتماد اٹھ جائے گا، اور ایک ایسا معاشرہ جنم لے گا جہاں انصاف صرف طاقتوروں کے لیے ہوگا۔ پی ٹی آئی ویمن ونگ کی قیادت میں خواتین کا کردار بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ وہ نہ صرف اپنی برادری کے مسائل اجاگر کریں بلکہ نظام میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بھی بنیں۔!
محترمہ فرح آغا کا تعلق شمالی پنجاب سے ہے اور وہ بھی کرپشن کے خاتمے اور شفافیت کے فروغ کے مشن پر گامزن ہیں، تاکہ معاشرہ انصاف اور دیانت داری کی راہ پر گامزن ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں