دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات شدت سے محسوس کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان اور بالخصوص آزاد کشمیر میں یہ اثرات زیادہ نمایاں ہیں، جہاں پانی کی قلت، زمینی کٹاؤ اور غیر متوازن بارشیں ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ ایسے میں کچھ افراد اپنی محنت اور عزم سے قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں۔ انہی میں سے ایک نمایاں نام ہے “ٹیچر عثمان”، جو ایک ماحولیاتی کارکن اور سوشل ورکر کے طور پر آزاد کشمیر میں پانی کے ذخیرے اور جنگلات کے تحفظ کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
میری خود ماحولیاتی مسائل میں کافی دلچسپی رہی ہے۔ میں اکثر یوٹیوب پر ماحول سے متعلق ویڈیوز دیکھتا اور اپنے ابو سے تبادلۂ خیال کرتا کہ ہمیں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔ میں سوچتا تھا کہ اگر گھر کی چھت پر جمع ہونے والا بارش کا پانی ضائع ہونے کے بجائے پائپ کے ذریعے کنویں یا بور میں پہنچا دیا جائے تو زیرِ زمین پانی کی سطح بلند ہو سکتی ہے۔ یہ خیال میرے ذہن میں ہمیشہ رہا، لیکن اس پر عملی قدم اٹھانے کا موقع نہیں ملا۔
ایک دن سوشل میڈیا پر “ٹیچر عثمان” کی ایک ویڈیو دیکھی، اور ایسا لگا جیسے میرے اپنے خیالات کو کسی نے حقیقت کا روپ دے دیا ہو۔ ان کی سوچ اور ماحول دوستی نے مجھے بے حد متاثر کیا اور میں ان کے بارے میں لکھنے پر مجبور ہو گیا۔
“ٹیچر عثمان” نے آزاد کشمیر میں ہزاروں چھوٹے بڑے تالاب اور چیک ڈیمز تعمیر کیے ہیں، جن کا مقصد بارش کے پانی کو محفوظ کر کے اسے زمین میں واپس پہنچانا ہے۔ ان تالابوں کے ذریعے نہ صرف پانی کی کمی پر قابو پایا جا رہا ہے بلکہ زیرِ زمین پانی کے ذخائر بھی دوبارہ بھر رہے ہیں۔
حالیہ بارشوں میں ان کی محنت رنگ لائی اور تین سو سے زائد تالاب پانی سے بھر گئے، جو لاکھوں لیٹر پانی ذخیرہ کرنے میں مددگار ثابت ہوئے۔ یہ ایک سادہ مگر مؤثر طریقہ ہے، جس سے نہ صرف پانی کے ضیاع کو روکا جا سکتا ہے بلکہ زمین کی زرخیزی بھی برقرار رہتی ہے۔ یہ پانی بعد میں زراعت اور پودوں کی آبیاری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے میں مدد دے۔
“ٹیچر عثمان” کا مشن صرف پانی کو محفوظ کرنا نہیں بلکہ جنگلات اور قدرتی ماحول کا تحفظ بھی ہے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اگر ہم قدرتی وسائل کی حفاظت کریں اور اپنی زمین پر زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں تو موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
ان کے بنائے گئے تالابوں سے جمع ہونے والا پانی مقامی درختوں اور پودوں کی افزائش میں مدد دے رہا ہے، جس سے زمین کی زرخیزی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف آج کے مسائل حل کرنے میں مددگار ہے بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے بھی ایک محفوظ اور بہتر ماحول فراہم کرے گا۔
جہاں ایک طرف” ٹیچر عثمان” کی یہ کاوشیں بے حد قابلِ تحسین ہیں، وہیں انہیں کئی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ اس مشن کو کامیاب بنانے کے لیے حکومتی سرپرستی اور عوامی تعاون بے حد ضروری ہے۔ اگر مقامی افراد اس منصوبے کا حصہ بنیں اور اپنی زمینوں پر پانی کے ذخیرے کے لیے تالاب بنائیں، تو یہ تحریک مزید مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ان کی کوششوں کو خوب سراہا جا رہا ہے اور مختلف لوگ ان کے ساتھ شامل ہونے کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں۔ کئی تنظیمیں اور ادارے بھی ان کے ساتھ مل کر کام کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں، جو مستقبل میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے۔
“ٹیچر عثمان” جیسے لوگ ہمارے معاشرے کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ ان کا یہ ماحولیاتی منصوبہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر نیت اور عزم پختہ ہو تو ہم کسی بھی چیلنج کا سامنا کر سکتے ہیں۔ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے بچانے کے لیے ہمیں بھی ایسے اقدامات کرنے ہوں گے، تاکہ ہماری زمین سرسبز اور پانی کے ذخائر محفوظ رہیں۔
حکومت، نجی تنظیموں اور عوام کو چاہیے کہ وہ” ٹیچر عثمان” جیسے لوگوں کی بھرپور حمایت کریں اور ان کے منصوبوں کو مزید وسعت دینے میں مدد کریں۔ کیونکہ اگر ہم آج قدرت کے تحفظ کے لیے سنجیدہ نہ ہوئے تو آنے والی نسلوں کے لیے حالات مزید مشکل ہو سکتے ہیں۔
کیا ہم بھی اپنی زمین کے لیے کچھ کر سکتے ہیں؟ اس سوال پر غور کریں اور اپنے علاقے میں ماحولیاتی بہتری کے لیے جو ممکن ہو، وہ ضرور کریں۔
14