51

نزیر قیصر بحیثیت شاعر تحریر: تابندہ سلیم

نزیر قیصر ایک حساس، انسانیت سے محبت کرنے والے اور درد مند شاعر ہیں۔ الفاظ کو نئے معنی دینے میں ماہر ہیں ان کی نثر میں بھی شاعری جھلکتی ہے ان کی شاعری جدت کلام سے معمور ہے ۔نزیر قیصر کمال کے شاعر ہیں جو بات وہ شعر میں بیان کرتے ہیں اس کو سمجھنا مشکل نہیں ہوتا بلکہ وہ دل میں اتر جاتی ہے اور اچھے شعر کی پہچان یہی ہے کہ وہ ایک مرتبہ سننے کے بعد ذہن نشین ہو جاتا ہے۔ نزیر قیصر کی شاعری محبت کا شجر سایہء دار ہے جس کے سائے میں بیٹھ کر انسان اپنے غم بھول جاتا ہے اور ٹھنڈک اور تازگی محسوس کرتا ہے ۔ان کی شاعری میں کائنات کی ہر شے سے محبت کرنے کا درس ملتا ہے وہ الفاظ اور احساسات کو بالکل نئے اور اچھوتے انداز میں بیان کرتے ہیں اور روز مرہ مشاہدے کی بات کو ایک نئے اور دلفریب انداز میں معنی بیان کرتے ہیں کہ انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ہم نے کبھی اس زاویے سے تو سوچا ہی نہیں ۔فرماتے ہیں اے ماورائے فکر ،اب آواز، دے کے ہم خود سے بچھڑ گئے ہیں، تجھے ڈھونڈتے ہوئے پوچھتا پھرتا ہوں اپنی چاپ سے اپنا پتہ ما سوا اس کے کوئی سودا مرے سر میں نہیں جدا کرتی نہیں مجھ سے مجھے بہتی ہوئی لہریں میں اپنا عکس پانی میں بہا کر دیکھ لیتا ہوں نزیر قیصر کی شاعری سورج کو چراغ دکھانے کے برابر ہے ۔دل میں صاف نظر آتے ہیں نقش قدم کوئی اس سنسان کھنڈر میں رہتا ہے واقعی نزیر قیصر کی شاعری کو بیان کرنے کے لیے الفاظ ساتھ نہیں دیتے ان کی محسوسات کو بیان کرنا مشکل ہے کیونکہ شاعری میں اس طرح کی جہتیں پہلے کہیں بیان نہیں کی گئیں۔ زندگی کا ثبات چاہتا ہوں میں زمیں پر نجات چاہتا ہوںحرف تیرے ہیں، صفحے تیرے ہیں میں قلم اور دوات چاہتا ہوں اس نے ہاتھوں پہ ہونٹ کیا رکھے آگئی ساری جان ہاتھوں میں ایک بوسہ ہو یا آنسو قیصر چہرہ گلنار بہت ہوتا ہے نزیر قیصر نے فطری جذبوں اور محسوسات کو نہایت دلکش انداز میں بیان کیا ہے ان کی شاعری کا مطالعہ اعصابی تناؤ کو ختم کرنے کا وسیلہ بنتا ہے ۔ان کی شاعری میں سادہ بیان اور نثر میں شاعری کا تاثر ملتا ہے نزیر قیصر کے ہاں ہوا ،بارش،درخت،پتے ،صبح شام، سردی ،گرمی یہ سب مخاطبین ہیں اور وہ ان سے باتیں کرتے ہیں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔درخت کٹ چکے بہت، ہوا بکھر چکی بہتحیات خاک و آب سے کلام کر چکی بہت زرد بانہوں میں جھکی شاخ وصال شاخ میں پھول کھلا ہے کوئیکتنے دنوں کے بعد شجر نے چھتری کھولی کتنے دن میں دن بارش کا واپس آیا ہاتھ میں دیا لیے وہ چھت پر واپس آئی اس کے ساتھ ہوا کا جھونکا واپس آیادھوپ اور بارش سے پھلجھڑی بناتا ہے آسماں بھی شاعر ہے ،شاعری بناتا ہے دنیا اچھی لگتی ہے رب اچھا لگتا ہے اچھی آنکھوں والوں کو سب اچھا لگتا ہےنزیر قیصر کی شاعری میں انسانیت، محبت، امن اور صلح آشتی کا سبق ملتا ہے۔اپنے جیسے لگتے ہیں لوگ اچھے لگتے ہیں دل کو دھڑکا لگا ہے چوری کا سونے جیسا ہے پھول توری کا محبت میں کسی کو کیا ملا ہے محبت ہی محبت کا صلہ ہے دیواروں سے باتیں کرنا اچھا لگتا ہے ہم بھی پاگل ہو جائیں گے ایسا لگتا ہے تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے ان کی شاعری میں امن محبت اور بھائی چا رہے کا پیغام ملتا ہے ۔مٹی سے کچھ خواب اگانے آیا ہوں میں دھرتی کا گیت سنانے آیا ہوں تو نے تیغ سے لہو کی بوند گرائی تھی میں دھرتی سے پھول اٹھانے آیا ہوں نزیر قیصر کے تمام ہم عصر شعرا اور بعد میں انے والے نزیر قیصر سی یکساں محبت کرتے ہیں۔بلا شبہ نزیر قیصر ایک حساس ،محبت کرنے والے اور ہمہ جہت اوصاف کی مالک شخصیت ہیں ۔نزیر قیصر اردو ادب کا وہ گراں قدر موتی ہے جو اپنی تابانی سے اپنے اور آنے والے زمانوں میں ادبی دنیا کو منور کرتا رہے گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں