172

مائینڈ سیٹ بدل رہا ہے�تحریر-شفاق گوندل

وزیراعظم جناب عمران خان نے گزشتہ دنوں ایک عالمی کانفرنس اور تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مائینڈ سیٹ کی تبدیلی شروع ہوچکی ہے۔ معیشت کے بارے میں باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا لوگ ٹیکس دیتے نہیں اور کہتے ہیں یہ خراب ہے وہ خراب ہے۔ انہوں نے غربت کے خاتمے کیلئے چین کے نظام کو رول ماڈل قرار دیا وزیراعظم عوامی آدمی ہیں انہوں نے سسٹم کی تبدیلی کیلئے اقدار میں آنے کیلئے بائیس سال جدوجہد کی ہے۔ انہیں عوام کے مسائل کا مکمل ادراک ہے اور ان کی خواہش اور کوشش بھی ہے کہ ملک میں کرپشن فری نظام رائج ہو۔ یہ گلہ تو ہر حکومت کرتی چلی آرہی ہے کہ عوام ٹیکس نہیں دیتے مگر ابھی چند روز پہلے اخبار میں ایک خبر تھی کہ ایف بی آر نے جولائی اگست کیلئے مقررہ ٹارگٹ سے زائد ٹیکس کی وصولی کی ہے۔ پھر حکومت اشیائے صرف پر ان لوگوں سے بھی ٹیکس لے رہی ہے جو خود زکوٰۃ پر زندہ ہیں آئے روز ایف بی آر کے سربراہ بدل جاتے ہیں مگر نہ جانے کیونکر ٹیکس کلیکشن کیلئے آسان اور سمال بزنس فرینڈلی نظام کیوں وضع نہیں کیا جاسکا۔ ایک بار ماضی میں ڈاکٹر محبوب الحق نے کوشش کی تھی مگر پھر آنے والی حکومت نے اسے ترک کردیا کیونکہ وہ خوف اور دبدبے سے عاری نظام تھا۔
اب ظاہر ہے مائینڈ سیٹ تو بدل ہی رہا ہے کبھی کسی دور میں محض چند روپے قیمت بڑھتی تھی تو پبلک احتجاج کرتی تھی مگر اب تو ایسا بالکل نہیں ابھی کل ہی یوٹیلٹی سٹورز پر 20کلو آٹے کا تھیلا جو 1160 روپے میں ملتا تھا اب 1200 روپے کا ہوگیا ہے۔ تین سال پہلے یہی آٹا 800 روپے میں ملا کرتا تھا۔ سپریم کورٹ اور حکومت زور لگا چکی مگر چینی مارکیٹ میں 100 اور 120روپے کلو سے نیچے نہ آسکی مگر کسی کو کوئی اعتراض نہیں نہ کوئی آواز اٹھتی ہے نہ کسی کو احتجاج کی سوجھتی ہے۔ پچھلے دنوں ایک کالم نویس صاحب جو کہ اب ماشا اﷲ بہت خوشحال ہیں بچے بھی امریکہ میں ہیں نے اپنے کالم میں بڑی محنت سے یہ ثابت کیا کہ دیگر ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں مہنگائی بہت کم ہے اور پھر ہمارے وزراء اور مشیران بھی تو یہی بتاتے ہیں کہ پاکستان میں پٹرول ڈیزل دیگر ممالک کی نسبت بہت سستا ہے اور فوڈ انفلیشن بھی دیگر ممالک کی نسبت بہت کم ہے اور چونکہ عوام کا مائینڈ سیٹ اب بدل چکا ہے وہ بڑے اعتماد کے ساتھ یہ تمام ارشادات من و عن تسلیم کرلیتے ہیں۔ اب تو لوگوں کو یہ بھی فرصت نہیں کہ ایک کروڑ نوکریاں فراہم کرنے کے وعدے پر کس حد پیش قدمی ہوئی کے بارے کسی سے سوال کریں۔
رہا سوال کرپشن کا تو ملک ریاض صاحب نے کچھ عرصہ قبل اپنے انٹرویو میں بتا دیا تھا کہ آپ دوسروں کے مسائل حل کرنے میں مدد کریں وہ آپ کی مشکلیں آسان کرنے میں مدد دیں گے۔ باہمی تعاون سے ہی معاملات طے ہوتے ہیں۔
ہمارے لوگ بھی عجب مزاج کے ہیں ایک عرصے تک امیدیں لگائے رکھیں کہ ہمارے رہنمائوں کے بیرون ملک جمع شدہ اربوں ڈالر واپس آئیں گے تو ملک میں سرمائے کی ریل پیل ہوجائیگی۔ وہ بھی ہمارے ایک وزیر صاحب نے آس توڑ دی یہ کہہ کر کہ ایسا کوئی سرمایہ باہر جمع ہی نہیں اب ظاہرہے محترم رہنمائوں کی بیرون ملک جائیدادیں تو نیلام ہونے سے رہیں کہ ہم تو اندرون وطن بھی ان کی جائیدادوں کی حفاظت کررہے ہیں کہ کہیں نیلامی کا فیصلہ ہی نہ لے آئے۔ اب کسی کو نہ آس ہے نہ امید کہ بیرون ملک سے سرمایہ کار وطن عزیز میں سرمایہ کاری کریں گے اور نوکریوں کیلئے امریکہ اور برطانیہ سے ماہرین پاکستان آیا کریں گے کیونکہ نہ تو ہم وطن عزیز میں سرمایہ کاری اور بزنس کیلئے مناسب ماحول پیدا کرسکے ہیں اور نہ ہی بجلی گیس کی فراہمی کو یقینی بنانے میں کامیاب بوسکے ہیں۔ اب تو لوگوں نے بھی بجلی نہ ہونے کا گلہ کرنا چھوڑ دیا ہے کہ چلو یہ جنزیشن والے ڈسٹری بیوشن والی کمپنیوں کے ڈائریکٹرز تو سکون سے ہیں یوں بھی پبلک کو اپنے ماہرین کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اور پھر ہمارے مذہبی رہنما بھی تو عوام کو دن رات صبر کی تلقین کرتے ہیں اور حکمرانوں کی غیر مشروط اطاعت کا سبق دیتے رہتے ہیں۔ اب ظاہر ہے مائینڈ سیٹ تو بدلنا ہی تھا۔
پہلے ریاست مدینہ ماڈل رہا‘ پھر کبھی امریکہ کا سو شل سیکورٹی اور الیکٹورل سسٹم ماڈل قرار پایا پھر چین کے نظام حکومت کو سراہا جانے لگا اب کرپشن فری معاشرے کیلئے چینی نظام کو سراہا جارہا ہے۔ چلیں کچھ تو تبدیلی آرہی ہے اب کہاں ٹھہرتی ہے یہ تبدیلی اس کا پتہ نہیں۔
لوگ البتہ خواب اب بھی دیکھتے ہیں مگر شکوہ اور گلہ کرنا قطعی طور پر بند کرچکے ہیں کیونکہ گلہ کرنے شوہ کرنے سے تو حالات نہیں بدلا کرتے۔ کرنے والوں نے جو کرنا ہے وہ تو کرنا ہے لوگوں سے صرف ووٹ لینے کا کام لیا جاتا ہے اور اس کے لئے اب الیکٹرانک ووٹنگ مشین ایجاد کرلی گئی ہے اور یہ بھی اس امر کو یقینی بنانے کیلئے لگائی جارہی ہے کہ پتہ چلایا جاسکے کون کس سے وفاداری کررہا ہے تاکہ پھر سب اپنے اپنے بلاک والوں کا خیال رکھیں یا ان سے امیدیں رکھیں کہ وہ ان کا خیال رکھیں۔
ہر آنے والی حکومت پولیس کلچر بدلنے کے وعدے اور دعوے کرتی ہے مگر قیام پاکستان کے ساتھ ساتھ یہ کلچر مستحکم ہوتا چلا گیا اور اب تو شاید یہ کلچر بدلنے والوں کو بھی خوف آتا ہے کہ اس پر کام شروع کریں لیکن اب پبلک مائینڈ سیٹ بدل رہا ہے اب اسی پرانے فرسودہ کلچر اور نظام سے کمپرومائیز کرکے رہنے کا سلیقہ اپنا لیا ہے۔ انصاف کیلئے عدالت جانے ے پہلے دس سالہ منوصبہ بندی کرلیتے ہیں اگر تو دس سال کیلئے حصول انصاف کیلئے خرچہ برداشت کرتے رہنے کی سکت ہو تو آگے بڑھتے ہی وگرنہ یوم حساب پر معاملے کو موخر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں