27

ای سی او ممالک اورپاکستان :معاشی، معاشرتی اور تجارتی تعلقات کا مستقبل تحریر:عاطف اکرام شیخ

ای سی او ممالک اورپاکستان :معاشی، معاشرتی اور تجارتی تعلقات کا مستقبل

تحریر:عاطف اکرام شیخ
صدر اکنامک کوآپریشن آگنائزیشن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ECO-CCI)
صدرفیڈریشن پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI)
نائب صدر کنفیڈریشن ایشیاء پیسیفک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (CACCI)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ای سی او چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ECO-CCI)،جو 1990ء میں قائم ہوا، اکنامک کوآپریشن آگنائزیشن (ECO)کا ایک الحاق شدہ ادارہ ہے جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان تجارت اور اقتصادی تعاون کو آسان بنانا، تجارتی تعلقات کو فروغ دینا، اور تجارت سے متعلق سرگرمیوں کو منظم کرنا ہے۔ ہمارے لیے یہ باعث فخر ہے کہ سال 2025-26 یعنی دو سال کیلئے اس تنظیم کا صدر پاکستان سے ہے ۔میں امید کرتا ہوں کہ اس دو سالہ دور میں ہم ای سی او رکن ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائیںگے ۔ بہترین حکمت عملی اور پالیسیوںسے پاکستان اور ای سی او ممالک کے درمیان معاشی، معاشرتی اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ مستقبل میں ان ممالک کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی معاشی ترقی کو نئی راہیں مل سکیں گی۔
پاکستان اور ای سی او (اقتصادی تعاون تنظیم)ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کی بڑی گنجائش موجود ہے۔ ای سی او ممالک میں ترکی، ایران، افغانستان، آذربائیجان، قازقستان، کرغیزستان، تاجکستان، ترکمانستان، اور ازبکستان شامل ہیں۔ یہ ممالک نہ صرف جغرافیائی طور پر قریب ہیں بلکہ ان کے درمیان تاریخی، ثقافتی، اور معاشی رشتے بھی گہرے ہیں۔ اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او)کے دس رکن ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی قربت پر مبنی ہیں۔ یہ تنظیم علاقائی اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے۔ پاکستان ای سی او کے بانی رکنوں میں سے ایک ہے اور اس خطے میں اقتصادی ترقی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔جغرافیائی قربت کی وجہ سے ای سی او ممالک ک ے ساتھ تجارت میں نقل و حمل کے اخراجات کم ہوتے ہیں، جو تجارت کو سستا اور زیادہ موثر بناتے ہیں۔اس کے علاوہ مختلف قسم کے قدرتی وسائل اور صنعتی صلاحیتیں موجود ہیں، جو پاکستان کو اپنی تجارتی ضروریات پوری کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ای سی او ممالک کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات پاکستان کے لیے سیاسی استحکام اور علاقائی امن کیلئے نہایت ضروری ہیں اور یہ پاکستان کو نئی منڈیوں تک رسائی دینے اور برآمدات کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہو گی۔ٹیکنالوجی اور علم کے تبادلے کو فروغ دے کرپاکستان کی صنعتی اور معاشی ترقی میں انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے۔ان ممالک کے ساتھ تجارت کو آسان بنانے کے لیے بینکنگ اور مالیاتی تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ تجارتی لین دین کو آسان بنایا جا سکے۔ پاکستان اور ای سی او ممالک کے درمیان تجارتی حجم کو بڑھانے کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں جنہیں دانشمندانہ طریقے سے استعمال کرتے ہوئے پاکستان اور دیگر ممبر ممالک ترقی اور خوشحالی کا سفر تیزی سے طے کر سکتے ہیں۔ پاکستان اور دیگر رکن ممالک کے درمیان تجارتی حجم کی موجودہ صورتحال کچھ اس طرح سے ہے پاکستان قازقستان
پاکستان اور قازقستان کے درمیان تجارتی حجم گزشتہ برسوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔2021ء میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم 20 ملین ڈالر تک پہنچ گیا،سال 2023میں پاکستان اور قازقستان کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم 139.33 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گیاہے۔جبکہ قازقستان کو پاکستان کی برآمدات کی مالیت 68.1 ملین ڈالر تھی۔ پاکستان کی طرف سے قازقستان کو برآمد کی جانے والی مصنوعات میں نمایاں پیک شدہ ادویات 14.7 ملین ڈالرز ، کیلے 6.47 ملین ڈالرز اور لیموں 14.9 ملین ڈالرز رہیں۔ قازقستان سے پاکستان کی درآمدات کی مالیت 5.58 ملین امریکی ڈالر تھی اور تجارت کا توازن پاکستان کے حق میں تھا۔مستقبل کے اہداف میں دونوں ممالک کا مقصد دو طرفہ تجارت کو 1 بلین ڈالر تک بڑھانا ہے ۔ پاکستان ایران
2023ء میں پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی حجم تقریبا 2.8 بلین ڈالر تھا۔ ایران نے پاکستان سے زیادہ برآمدات کیں، پاکستان جو کے 9.97 ملین ڈالر کے مقابلے 943 ملین ڈالر۔پاکستان سے ایران کو برآمدات دیگر تعمیراتی گاڑیاں، کھدائی کی مشینری، اور ٹریلرز اور نیم ٹریلرز۔ جبکہ ایران سے پاکستان کو برآمدات پٹرولیم گیس، ریفائنڈ پٹرولیم، اور خشک پھلیاں۔ایل پی جی۔بٹومین-کوئلہ ٹار۔لوہے یا نان الائے سٹیل کی سلاخیں ۔ایسکلک ہائیڈرو کاربن-گری دار میوے-ایتھیلین پولیمر-ٹماٹر، پیاز اور کھجوریں شامل ہیں۔پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے حال ہی میں اٹھائے گئے اقدامات میں تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف شامل ہے۔ دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں اور تجارتی روابط کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ صنعتکاروں کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات سے پاکستان کی معیشت، تاجروں اور عوام کو فائدہ ہوگا۔ وہ تجویز کرتے ہیں کہ دونوں ممالک باہمی تعاون کے ذریعے تجارتی تعلقات کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ پاکستان ترکی ترکی کے ساتھ پاکستان کے تجارتی تعلقات بھی اہم ہیں۔ دونوں ممالک ٹیکسٹائل، تعلیم، صحت، اور ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔سال 2024 میں پاکستان اور ترکی کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جو کہ سال بہ سال تقریبا 30 فیصد اضافے کے ساتھ 1.4 بلین ڈالر تک پہنچ گیا، دونوں ممالک اس کو 5 بلین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف رکھتے ہیں۔ ترکی اور پاکستان کے درمیان تجارتی حجم 2024 میں بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔سال بہ سال اضافہ کے ساتھ تجارتی حجم 2024  میں تقریبا 30 فیصد سالانہ بڑھ کر 1.4 بلین ڈالر تک پہنچ گیا۔ پاکستان تاجکستان سال 2023 میں پاکستان اور تاجکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 52.73 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 62.33 فیصد زیادہ ہے۔دونوں ممالک کے درمیان کل تجارتی حجم 52.73 ملین امریکی ڈالر ہے۔جس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 62.33 فیصد اضافہ ہوا۔پاکستان کی برآمدات: 48.94 ملین امریکی ڈالر (گزشتہ سال کے مقابلے میں 152.2 فیصد اضافہ)پاکستان کی درآمدات: 3.80 ملین امریکی ڈالر ہیں۔پاکستان سے بڑی برآمدات، چینی اور چینی کنفیکشنری، آلو، ٹماٹر، پیاز، دواسازی، کھیرے، پہنا ہوا لباس، چاول، ٹماٹر پاکستان میں بڑی درآمدات کوئلہ، کپاس، پھل اور سبزیاں ہیں۔ پاکستان آذربائیجان
سال 2024 میں پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان تجارتی حجم 22 ملین ڈالر تک پہنچ گیا، جو 2023 کے مقابلے میں 22.5 فیصد زیادہ ہے، آذربائیجان کو پاکستان کی برآمدات 21.8 ملین ڈالر اور آذربائیجان کی پاکستان کو 196,000 ڈالر کی برآمدات ہیں۔ آذربائیجان کو پاکستان کی برآمدات کی مالیت 21.8 ملین ڈالر تھی۔آذربائیجان کی پاکستان کو برآمدات کی مالیت $196,000 تھی۔ اور یہ 2023 کے مقابلے میں $4.9 ملین، یا 22.5% کے اضافے کی نمائندگی کو ظاہر کرتا ہے ۔ اور آذربائیجان کی اسٹیٹ آئل کمپنی (SOCAR) اور پاکستان کی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) اور پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) کے درمیان Machike-Thalian- Tarujabba وائٹ آئل پائپ لائن منصوبے کے لیے شراکت داری سمیت توانائی کے تعاون کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔کارگوز اور پٹرولیم مصنوعات کی خرید و فروخت سمیت توانائی کے تعاون تجارت کے موجودہ فریم ورک میں ترمیم کے لیے بھی معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔دونوں ممالک توانائی، بنیادی ڈھانچے اور رابطے کے مشترکہ منصوبوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے تجارت اور سرمایہ کاری کو بڑھانا چاہتے ہیں۔ پاکستان ترکمانستان اسی طرح 2023 میں پاکستان اور ترکمانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم تقریبا 8.41 ملین ڈالر تھا، جس میں پاکستان نے 2.234 ملین ڈالر کی برآمدات اور 6.17 ملین ڈالر کی درآمدات کیں۔ پاکستان سے برآمد ہونے والی اہم اشیا میں جوٹ کے تانے بانے اور جوٹ کے تھیلے، پائروٹیکنک مصنوعات، پھل اور سبزیاں اور دواسازی شامل ہیں۔پاکستان نے ترکمانستان کو 1.7 ملین ڈالر کی برآمدات کیں۔گزشتہ 5 سالوں کے دوران، ترکمانستان کو پاکستان کی برآمدات میں سالانہ 16.3 فیصد کی شرح سے اضافہ ہوا ہے۔جو 2018 میں 798 ڈالر سے بڑھ کر 2023 میں 1.7 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔  پاکستان ازبکستان گزشتہ 5 سالوں میں ازبکستان کو پاکستان کی برآمدات میں 14.4 فیصد سالانہ کی شرح سے اضافہ ہوا ہے، جو 2018 میں 66.9 ملین ڈالر سے 2023 میں 131 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ 2023 میں، پاکستان نے ازبکستان کو کوئی خدمات برآمد نہیں کیں۔ ازبکستان-پاکستان تجارت 2023 میں، ازبکستان نے پاکستان کو 231 ملین ڈالر کی برآمدات کیں۔ پاکستان کرغستان پاکستان اور کرغزستان کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم 2023 میں کرغزستان کو پاکستان کی برآمدات میں تقریبا 10.68 ملین ڈالر تک پہنچ گیا، جو کہ بہت کم ہے اور اسے بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔سال 2023 میں، پاکستان نے افغانستان کو 969 ملین ڈالر کی برآمدات کیں، جو کے 2018 کے مقابلے 1.68 بلین ڈالر سے 10.4 فیصد کم ہیں، جبکہ افغانستان نے پاکستان کو 531 ملین ڈالر کی برآمدات کیں، جو کہ 2018 میں 691 ملین ڈالر کے مقابلے میں 5.41 فیصد زیادہ ہے۔افغانستان کو پاکستان کی برآمدات کل قیمت $969 ملین ہیں جن میں اہم برآمدات چاول ($212 ملین)، پیک شدہ ادویات ($103 ملین)، اور دیگر خوردنی تیاریاں ($86.7 ملین) افغانستان کی پاکستان کو برآمدات کل قیمت $531 ملین ہے۔پاکستان افغان مصنوعات کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے۔پاکستان 369 ملین کی برآمدات کرتا ہے جبکہ افغانستان پاکستانی برآمدات کے لیے چوتھی بڑی منزل ہے۔ بطور صدر فیڈریشن پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری ، بطور صدر ای سی او چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور بطور نائب صدر کاسی چیمبر میں یہ سمجھتا ہوں اور میری دلی خواہش ہے کہ اپنا تجارتی حجم بڑھانے کے لیے پاکستان کو ای سی او ممالک کے ساتھ ترجیحی تجارتی معاہدے کرنا ہونگے تاکہ برآمدات و درآمدات میں اضافہ ہو ۔ زمینی اور فضائی رابطوں کو بہتر بنانے سے تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان کو ان ممالک کے ساتھ براہ راست فضائی اور زمینی راستے قائم کرنے چاہئیں۔مشترکہ منصوبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے سے معاشی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ خاص طور پر توانائی، انفراسٹرکچر، اور ٹرانسپورٹیشن کے شعبوں میں باہمی تعاون کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ڈیجیٹل تجارت کو فروغ دینے کے لیے ای کامرس پلیٹ فارمز کو مضبوط بنانا چاہیے۔ اس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو بھی بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی حاصل ہوگی۔ای سی او ممالک کے درمیان علاقائی یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ معاشی پالیسیاں بنائی جانی چاہئیں۔خطے میں انفراسٹرکچر کی ترقی پر توجہ دینے سے تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ خاص طور پر راہداری منصوبوں کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستان کو ای سی او ممالک کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ کو فروغ دینے کے لیے موثر پالیسیاں بنانی چاہئیں۔ اس سے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے دیگر ممالک بھی فائدہ اٹھا سکیں گے۔خطے میں انفراسٹرکچر کی ترقی پر توجہ دینے سے تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ خاص طور پر راہداری منصوبوں کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ای سی او ممالک کو مشترکہ چیلنجز جیسے ماحولیاتی تبدیلی، توانائی کے بحران، اور وبائی امراض کے خلاف مل کر کام کرنا چاہیے۔ پاکستان اور ای سی او ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی معاشی ترقی کو نئی راہیں مل سکیں گی۔ تاہم، ابھی بھی بہت سی رکاوٹیں موجود ہیں جن کو دور کرنے کی ضرورت ہے ای سی او ممالک کا مشترکہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری تجارتی تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ چیمبر تجارتی معلومات فراہم کرنے، تجارتی وفود کا تبادلہ کرنے اور تجارتی میلوں اور نمائشوں کا انعقاد کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں