اورنگزیب عالمگیرمغل بادشاہ شاہجہان اور ملکہ ممتاز محل کا بیٹا تھا۔اس نے بہترین اسلامی اور عسکری تعلیم حاصل کی۔ وہ فقہ، حدیث، قرآن اور عربی و فارسی زبانوں میں ماہر تھا۔فتاویٰ عالمگیری کوئی پڑھے تو جان سکے کہ یہ شاہکار کس کی تصنیف ہے،اس وقت کے مورخ سے بہت ہی بھول ہوئی کہ اس نے ایک فقیر منش بادشاہ کو بھی نہ بخشا اور اسے ”سخت گیر“ لکھ گیا۔سخت گیر ی تو اس کی ظالموں کے لیے تھی،دین مخالف عناصر کے لیے تھی،ان قباحتوں کے لیے تھی جن سے اسلام کے نام پر حرف آتا تھا،ان قوانین کے لیے تھی جن سے انسانیت لرز رہی تھی۔اکبر دور کی اصلاحات جب آپے سے باہر ہونے لگیں تو اسی اورنگ زیب نے دکن کے گورنر کی حیثیت سے ان اصلاحات کا بھی قلع قمع کیا۔اورنگ زیب نے ہر وہ بغاوت کچل ڈالی جو سلطنت مغلیہ اور دین اسلام کے خلاف تھی۔بادشاہ اکبر جزیہ ختم کرتا ہے اورنگ زیب اسے بحال کرتا ہے،شریعت کو سختی سے نافذ کرنے کا سہرا بھی اسی اورنگ زیب کے سر سجتا ہے جسے اپنی سلطنت کو وسعت دینے اور اسلام کو فروغ دینے کے لیے اپنے بھائیوں کی بھی سرکوبی کرناپڑی تھی۔دنیا کی تاریخ میں ایسا کوئی بادشاہ نہیں گزرا جو فقیر منش ہو،جس نے اپنے ہاتھ سے قرآن پاک لکھ ڈالا ہو،جو نایاب قسم کی ٹوپیاں بناتا ہو اور بڑے بڑے بادشاہوں کو فروخت کرتا ہو،جو قومی خزانہ کا اپنی زات پر استعمال گناہ کبیرہ گردانتا ہو۔اسلامی قوانین (شریعت) کو ریاستی معاملات میں شامل کرنا،غیر اسلامی رسوم و رواج، مثلاً درباری موسیقی اور ہولی و دیوالی جیسے تہواروں پر پابندی لگانا،سرکاری عہدیداروں کی سخت نگرانی اور بدعنوانی کے خلاف سختکارروائی،شاہی دربار میں غیر ضروری اخراجات کا خاتمہ اور سادگی کو فروغ دینا،اپنے بیٹوں اور رشتہ داروں کے خلاف سخت اقدامات تاکہ سلطنت میں بغاوت نہ ہو،شراب و دیگر منشیات پر پابندی،انصاف کے معاملے میں سخت گیر رویہ، اسلامی اصولوں پر فیصلے صادر کرنے کا کام اورنگ زیب ہی کر سکتا تھا۔
وہ بولتا تو مجمع پر خاموشی طاری رہتی،وہ قرآن اور حدیث کے حوالے دیتا تو سننے والے حیرت زدہ ہو جاتے،وہ لڑنے نکلتا تو مڑ کر نہ دیکھتا اور کامیاب لوٹتا۔نصف صدی سے ایک برس کم اورنگ زیب کا اقتدار رہتا ہے،دکن کے گورنر سے سلطنت مغلیہ کا فرمانروا بننے تک اس کی زندگی جدوجہد سے عبارت ہے۔جو سازش سامنے آتی پاش پاش کر دیتا،جو باغی سر اٹھاتا کچل کے رکھ دیتا، مغلیہ دور اور خاص کر اورنگ زیب کے دور حکومت میں انصاف جا بجا نظر آتا تھا،امن اور سکون کی فراوانی تھی،رعایا خوش تھی۔1657 میں اپنے والد شاہجہان بادشاہ کے بیمار ہوجانے پر فکر مند ہوئے،ریاست کی فکر رہنے لگی،بڑے بھائی دارا شکوہ صوفی ازم کے باعث لاتعلق سے تھے،دوسرے بھائی بھی قابلیت میں قدرے کمزور ہی نکلے تھے اس لیے سلطنت کو قائم دائم رکھنے کے لیے اورنگ زیب نے ہر وہ قدم اٹھایا جو ضروری سمجھا گیا۔وہ اپنے باپ کا جانشین بنا اور جانشینی ثابت کر کے دکھائی۔ہر فوجی مہم میں کامیابی چھٹے مغل بادشاہ اورنگ زیب کا ہی مقدر تھی۔
3 نومبر 1618 کو بھارتی شہر دھوڑ (موجودہ مدھیہ پردیش) میں پیدا ہونے والے اورنگ زیب کی وفات 3 مارچ 1707 کو احمد نگر، دکن میں 88 سال کی عمر میں ہوتی ہے۔ انہیں خلد آباد (مہاراشٹر، بھارت) میں وصیت کے مطابق سادگی سے دفن کیا جاتا ہے۔مقبرے کو بھی سادہ اورغیر شاہانہ رکھنے کی وصیت کر جاتے ہیں جس پر من و عن عمل کیا جاتا ہے۔بادشاہ وقت اورنگزیب نے اپنے مقبرے کے اخراجات کے لیے اپنی دستکاری (قرآن کی کتابت) سے کمائی گئی رقم مختص کر رکھی تھی۔یہ مقبرہ مغلیہ تاریخ میں ایک منفرد مثال ہے، جو ایک عظیم بادشاہ کی عاجزی اور سادگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
ذاتی آمدن سے بنائے جانے والایہی سادہ مقبرہ آج ان انتہا پسندوں کے لیے سوہان روح بنا ہوا ہے جن کے اباو اجداد کو اس فقیر نے ہمیشہ شکست سے دوچار کیا،ان کی ہر بغاوت کچلی،ان کی ہرسازش زمین بوس کی۔اس فقیر منش بادشاہ کا یہ سادہ مقبرہ حضرت خالد بن ولیدؓ کے مزار پاک کے قریب ہے، جس کی وجہ سے خلد آباد کو تاریخی اور مذہبی اہمیت حاصل ہے۔ تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ کہ اگر کسی بھی مغل بادشاہ کا ذکر یا اس کی میراث کو مٹایا گیا تو تاریخ ہند ہی مشکوک ہوجائے گی،ہندوستان سے مغلیہ سلطنت کی شاہکار عمارتیں،مقبرے،مزارات،باغات،قلعے،راہداریاں،مساجد ہٹا دی جائیں تو بھارت کے پاس دنیا کو دکھانے کے لیے مودی کی دھوتی ہی بچے گی۔ہندوستان کو سونے کی چڑیا بنانے والے مغل فرمانروا وں کے مقبرے مر جع خلائق ہیں،خلد آباد میں اس سادہ مقبرے پر سالانہ لاکھوں لوگ عقیدت کے ساتھ آتے اور حاضری دیتے ہیں۔ ان میں سیاح اور تاریخ کا مطالعہ کرنے والے لوگ بھی شامل ہیں۔کابل میں مدفون بابر کا مزار ہو یا رنگون میں بہادر شاہ ظفر کی آخری آرامگاہ سب ہی عقیدت کا نشان ہیں۔
بھارتی انتہا پسندوں کی جانب سے شہنشاہ ہند اورنگ زیب عالمگیر کا مقبرہ گرانے کا مطالبہ بھارت کے خاتمے کاالارم ہے، چھتر پتی شیوا جی مہاراج کوپے در پے شکست دے کر اورنگ زیب امر ہوئے اب برسوں کی خلش دل میں لیے ”چھاوا“ جیسی فلم بنا کر اپنے داداوں کو مظلوم دکھا رہے ہیں، یہ فلم مراٹھا سلطنت کے دوسرے حکمران چھترپتی سمبھاجی مہاراج کی زندگی پر مبنی ہے اس فلم میں مغل بادشاہ اورنگزیب کے ساتھ ان کی کشمکش کو بھی دکھایا گیا ہے۔یہ انتہا پسند ہندو امن کے درپے ہو گئے ہیں۔بھارت کا چہرہ پہلے ہی کالک زدہ ہے، اورن زیب کے نام سے منسوب تاریخی شہر اورنگ آباد کے مکین اس سازش کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ا ور مقبرہ کی حفاظت کے لیے ہر قربانی دینے کی بات ہورہی ہے۔ اورنگزیب کو ایک متنازع شخصیت بنانے اورسمجھنے والے مخالفین کی اولادیں اب اس ایک دیندار اور انصاف پسند بادشاہ کے مقبرے کو گرانا چاہتے ہیں جس کی برکت سے بھارت قائم ہے۔مہاراشٹر کی مقامی حکومت غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرے اور مود ی حکومت آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی تحویل میں ہونے والے اس ورثہ کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے تا کہدنیا بھر میں آباد عظیم قوم مغل میں پھیلی بے چینی بڑھنے نہ پائے۔
21