اسلام آباد فوڈ اتھارٹی پارلیمنٹ ایکٹ کے تحت وجود میں آئی تھی چیف کمشنر آئی سی ٹی اس کا سربراہ ہوتا ہے جبکہ پارلیمنٹ سے پاس شدہ قانون میں تحریر ہے کہ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا صدر یا اس کا کوئی نامزد کردہ شخص فوڈ اتھارٹی کے بورڈ کا ممبر ہوگا- اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اسلام آباد کے تاجروں اور صنعت کاروں کا نمائیندہ ادارہ ھے اور فوڈ اتھارٹی میں سٹیک ہولڈر ہے۔ لیکن ڈپٹی ڈائریکٹر انچارج نے گذشتہ ہفتہ ہونے والی بورڈ میٹنگ میں ان کو بلانا گوارہ نہ کیا۔ کیوں کہ ان کو ڈر تھا کہ بورڈ میٹنگ میں ان کا کٹھ چھٹہ نہ کھل جائے ۔ انہوں نے اپنی مرضی سے غیر متعلقہ لوگوں کو میٹنگ میں بلایا جو کہ بدنیتی پر مبنی تھا ۔ قانون میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ فوڈ پراسسنگ سے متعلق انڈسٹرہلسٹ بورڈ میں شامل کیا جائے گا۔ بورڈ کی میٹنگ ان کی اس جانبداری کی وجہ سے غیر موثر ہوگئی ہے اور اس میں کئے گئے فیصلوں کی کوئی قانونی حیثیت نہ ہے۔ یہ بھی پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ یہ بورڈ کی دسویں میٹنگ تھی جبکہ اس سے قبل سابق کمشنر آئی سی ٹی نور الامین مینگل کی صدارت میں صرف ایک اجلاس ہوا تھا ۔ آج تک قانون سازی کے بعد سے اب تک اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کے رولز نہ بنائے جا سکے ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ پنجاب والے رولز اپنا لئے گئے ہیں ۔ جبکہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے مطابق کوئی بھی صوبہ دوسرے صوبوں کے قانون کو اپنا نہیں سکتا ۔
اسلام آباد تعلیم یافتہ لوگوں کا شہر ہے کیا اس کی فوڈ اتھارٹی کو کنٹرکٹ پر آنے والی ڈپٹی ڈائریکٹر چلائے گی ؟
اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کوشش کر رہی ھے کہ ایم سی آئی کا محکمہ ڈی ایم اے کو عملاً ختم کر دیا جائے ۔ ڈی ایم اے پارلیمنٹ کے 1968 میں پاس شدہ قانون کے مطابق وجود میں آیا تھا۔ جس کے مطابق کھانے پینے کے کاروبار کو ریگولیٹ کرنے کی ذمہ داری دی گئی۔ ڈی ایم اے کے ٹریڈ لائسینس حاصل کرنے والے تاجروں اور انکے کی ملازمین کی مختلف بیماریوں کی ویکسینشن کرائی جاتی ہے۔ اور انکی ویکسینشن محکمہ ہیلتھ سے کرتا ہے جبکہ فوڈ اتھارٹی نے اپنے لائسینس کے لئے کوئی ویکسینیشن کی شرط نہ رکھی ھے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے جرمانوں اور لائسینس فیس کا از خود تعین کر لیا ہوا ہے جبکہ ضروری تھا کہ تمام رولز اور لائسینس کی منظوری وفاقی کابینہ سے کی جانی تھی لیکن ایسا نہ ہو سکا ہے ۔ دکانداروں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ ڈی ایم اے کے لائیسنس کے ساتھ ساتھ فوڈ اتھارٹی کا بھاری رقوم کا لائسینس حاصل کریں حالانکہ چیف کمشنر اور ڈپٹی کمشنر قرار دے چکے ہیں کہ ٹریڈ لائسینس میں اوور لیپنگ نہیں ہونی چاہیے لیکن فوڈ اتھارٹی کی ڈپٹی ڈائریکٹر کا موقف ہے کہ ڈی ایم اے کے لائیسنس ختم کر کے فوڈ اتھارٹی کے بنائے جائیں ڈائریکٹوریٹ ڈی ایم اے ایک آئینی ادارہ ھے اور کسی بھی صورت میں اسے ختم نہیں کیا جاسکتا ۔ لیکن پریکٹیکلی ختم کیا جا رہا ہے۔ وزیر داخلہ سید محسن نقوی سے درخواست ہے کہ وہ اسلام آباد فوڈ اتھارٹی میں ہونے والی بے ضابطگی کا نوٹس لیں اور اسے ڈی ایم اے کے ماتحت کرنے کے احکامات جاری کریں.
17